Kulyat-e-Suroor


by Suroor Barabankvi


Publisher: Maktaba-e-Danyal


250 .00 RS


Suroor Barabankvi

About Book

اکثر تجربے میں آیا ہے کہ ہاتھی کے دانت کی طرح شعر بھی سننے میں کچھ اور دکھائی پڑتا ہے، پڑھنے میں کچھ اور۔ لیکن سرورؔ کے حسنِ کلام پر دیدۂ و گوش یا دل و دماغ کی گواہی میں فرق کرنا مشکل ہے، جیسا پڑھتے ہیں ویسا لکھتے ہیں، دیانت اور صداقت سے سوچتے ہیں، خلوص اور درد سے محسوس کرتے ہیں، سہولت اور سلیقے سے اظہار کرتے ہیں، شیریں اور مترنم الفاظ جن میں سجاوٹ تو ہے بناوٹ نہیں ہے، نہ فکر میں کوئی الجھائو ہے نہ جذبات میں کوئی کھوٹ، میٹھی بات کی ہے تو شیریں اور رکھ رکھائو سے کی ہے، تلخ بات کہی ہے تو دو ٹوک اور بے باکانہ کہی ہے، جتنے کم گو ہیں اتنے ہی خوش گو ہیں۔ غزل کے رنگ میں جو ان کی مرغوب صنفِ سخن ہے، حدیثِ دل کے ساتھ ساتھ کشا کش غمِ دوراں بیاں کرنے کی روایت کو بہت خوش اسلوبی سے نبھایا ہے۔ اور نظم میں ابنائے وطن کے درد و کرب کو بیک وقت و فور اور کفایت سے ادا کیا ہے۔ (فیض احمد فیض)

About Author

سرور بارہ بنکوی 30ستمبر1919ء کو بارہ بنکی (یوپی، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پہلے مشرقی پاکستان آئے اور وہاں سے المیہ مشرقی پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے فلم تنہا کے مکالمے لکھ کر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اور پھرچندا، تلاش، ناچ گھر، کاجل، بہانہ، ملن، نواب سراج الدولہ، تم میرے ہو، آخری اسٹیشن،چاند اور چاندنی، احساس، سونے ندیا جاگے پانی اور کئی دیگر فلموں کے نغمات لکھے جو بہت مقبول ہوئے اسی دوران انہوں نے تین فلمیں آخری اسٹیشن، تم میرے ہو اور آشنا پروڈیوس اور ڈائریکٹ بھی کیں۔ آخری دنوں میں وہ بنگلہ دیش کے اشتراک سے ایک فلم کیمپ 333 بنانا چاہتے تھے۔ وہ اسی سلسلے میں ڈھاکا گئے ہوئے تھے کہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث 3 اپریل 1980ء کو ڈھاکا میں وفات پاگئے۔ ان کا جسد خاکی کراچی لایا گیا جہاں وہ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ سرور بارہ بنکوی کے دو شعری مجموعے سنگِ آفتاب اور سوزِ گیتی کے نام سے شائع ہوئے جبکہ کلیاتِ سرور ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوئی۔