Anton Chekhov


by Anton Chekhov


Publisher: Maktaba-e-Danyal


200 .00 RS


Anton Chekhov

About Book

چیخوف کے افسانوں اور ڈراموں کا مطالعہ کرتے وقت ایسا لگتا ہے جیسے آپ موسمِ خزاں کے ان آخری اداس اداس دنوں میں اِدھر اُدھر گھوم پھر رہے ہوں جب فضائیں بڑی صاف و شفاف ہوتی ہیں اور برہنہ اشجار، تنگ مکانات اور غیر دلچسپ افراد بہت واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ سب کچھ عجب سونا سونا سا، جامد و ساکن اور بے جان سا لگتا ہے۔ جنگل کی گہری نیلی دوریاں بے رونق آسمان سے جا ملتی ہیں جو منجمد کیچڑ سے بھری ہوئی دھرتی کی حالت پر سرد آہیں بھرتا معلوم ہوتا ہے۔ ادیب کی دانش خزاں کے آفتاب کی طرح بڑی بے رحمانہ صفائی کے ساتھ ناہموار راستوں، ٹیڑی میڑھی گلیوں اور تنگ اور گندے مکانات پر روشنی ڈالتی ہیں جہاں قابلِ رحم اور حقیر افراد کا اکتاہٹ اور کاہلی سے دم گھٹتا رہتا ہے اور وہ چوہوں کی جیسی بے معنی اور بے خواب بھاگ ڈور میں مصروف رہتے ہیں۔ (میکسم گورکی)

About Author

انتون پاولووِچ چیخوف 29جنوری 1860ء کو پیدا ہوئے۔اُن کا شمار روس کے صفِ اوّل کا افسانہ و ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے، پیشے کے لحاظ سے طبیب تھے۔ بچپن سخت مالی حالات میں گزرا۔ ٹیوشن پڑھا کر اور پرندے پکڑ و بیچ کر اپنی پڑھائی کے اخراجات اُٹھاتا رہا۔ لکھنے کا سلسلہ بھی دراصل معاش کمانے کے لیے شروع کیا اور چھپیس برس کی عمر تک چار سو سے زائد کہانیاں لکھ کر بیچیں مگر زیادہ شہرت ڈرامہ نگار کے طور پر ملی اور ڈرامے اصل پہچان بن گئے۔ تاہم بعض نقاد چیخوف اور اس کی کہانیوں کو جدید افسانہ کے معمار کہتے ہیں۔ ان کی متعدد کہانیوں میں بچوں کی خاندان سے علیحدگی کا عکس نظر آتا ہے۔ 1897ء میںانہیں تپ دق کا مرض لاحق ہوا جس کے باعث 15جولائی 1904ء کو ان کا انتقال ہوا۔ چیخوف کے اثرات بعد کے کئی لکھنے والوں پر محسوس ہوتے ہیں۔