Dunyazad Volume 19


by Asif Farrukhi


Publisher: Scheherzade


160 .00 RS


Asif Farrukhi

About Book

Dunyazad Vol 19.

About Author

قرۃ العین حیدر 20جنوری 1927کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا بچپن پورٹ بلیئر میں گزرا۔ ان کی ابتدائی تعلیم دہرادون، لاہور اور لکھنئو میں ہوئی۔ لکھنئو یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے اور کیمبرج یونیورسٹی سے جدید انگریزی ادب کا کورس کیا۔ اس کے بعد آرٹ کی تعلیم لکھنئو اور صحافت کی تعلیم لندن سے حاصل کی۔ قرۃ العین کے تخلیقی سفر کا آغاز چھ سال کی عمر میں ہوا جب ان کی کہانی بچوں کے رسالے’پھول‘ لاہور میں شائع ہوئی۔ ان کا پہلا افسانہ تیرہ سال کی عمر میںفرضی نام ’لالہ رخ‘ سے شائع ہوا۔ تقسیم ہندوستان کے بعد 1949ء میں قرۃ العین حیدر پاکستان آ گئی۔یہاں انہوں نے محکمہ اطلاعات و نشریات میں بحیثیت اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کرنے کے علاوہ پاکستان ائیر لائن میں انفارمیشن افسر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ وہ کچھ عرصہ ’پاکستان کوارٹر‘ کی قائم مقام ایڈیٹر بھی رہیں۔ 1960ء میں چند سیاسی وجوہات کی بنا پر واپس بھارت چلی گئیں۔ قرۃ العین حیدر کی تخلیقات میںافسانے، ناول، ناولٹ، رپورتاژ، تراجم اور کہانیاں شامل ہیں۔ انہوں نے بچوں کے ادب سے متعلق بھی کام کیا اوراپنی کئی کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے قیام پاکستان کے دوران اپنا شہرۂ آفاق ناول ’آگ کا دریا‘تحریر کیا۔ ان کی دیگر اہم تصانیف میں ’میرے بھی صنم خانے‘، ’سفینۂ غم دل‘، ’آخر شب کے ہم سفر‘، ’گردش رنگ چمن‘، ’چاندنی بیگم‘، ’کارجہاں دراز ہے‘،’ستاروں سے آگے‘ شامل ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے کئی کتابیں مرتب بھی کیں۔ان کی کتابوں کے تراجم اور ان کی تحریروں کو کئی لوگوں نے مرتب کیا ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف ادبی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔قرۃ العین حیدر کا انتقال 21اگست 2007ء کو کیلاش ہاسپٹل نوئیڈا میں ہوا۔